تمھیں یوں یاد رکھنا تھا مکمل بھول جانا تھا
محبت نے دیا کیا تھا جو اب ہم نے گنوانا تھا
تمھیں ملنا نہیں ہم سے تو کب مشتاق ہم بھی تھے
نئے تھے راستے اپنے مگر منظر پرانا تھا
پلٹ کر تم نے دیکھا تھا لبِ خاموش کی جانب
تمھیں جانے کی جلدی تھی مجھے بھی دور جانا تھا
تمھارے دل پہ جو گزری وہی حالت ہماری تھی
گزاری رات جو مر کے تمہیں اس کا بتانا تھا
اذیت کے سوا کیا تھا تمھارے ساتھ رہنے میں
بہت مشکل تھا دل کا ماننا لیکن منانا تھا
بڑی مشکل سے سمجھے ہیں کہیں اب جا کے ہم اس کو
کہ سانپ اور آستیں کا رشتہ بھی کتنا پرانا تھا
